History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu Here
برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کے خلاف پہلی بڑی مسلح جدوجہد کی۔ اس کی ناکامی کے بعد مغلیہ سلطنت کا باقاعدہ خاتمہ ہوا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکی کی خلافت کو بچانے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک عظیم تحریک چلائی۔ اگرچہ یہ کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس نے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کر دیا۔ 6. خطبہ الٰہ آباد (1930ء)
3. سیاسی بیداری اور کانگریس کا قیام (1885ء)
— علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے شمال مغربی ہندوستان میں ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ Slideshare 1931 سے 1947: قیامِ پاکستان کی منزل 1933: لفظ "پاکستان" کی تجویز history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور انگریزی اشیاء کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ تحریک بھی ناکام ہوئی اور ترکی میں خلافت ختم ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد ایک حصہ نے افغانستان کی طرف ہجرت کی جسے ہجرت تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے。
لارڈ ویول کی بلائی گئی یہ کانفرنس قائدِ اعظم کے اس موقف کی وجہ سے ناکام ہوئی کہ عبوری حکومت میں تمام مسلم وزراء صرف مسلم لیگ ہی نامزد کرے گی۔
1906ء: آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام (Founding of Muslim League) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
سرسید احمد خان نے محسوس کیا کہ مسلمان جدید تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ایم اے او (MAO) کالج
لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کے لیے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔
پاکستان کی تاریخ 1857ء سے 1947ء تک کا سفر ایک جدوجہد کا سفر ہے۔ یہ درس دیتا ہے کہ قومیں جب متحد ہوتی ہیں اور انھیں ایک مستحق قیادت ملتی ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کا حصول محض ایک ٹکڑہ زمین حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسے نظامِ حیات کو نافذ کرنے کی خواہش تھی جہاں مسلمان اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکیں۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
بنگال میں مسلمانوں نے بھی پاکستان کے حق میں زبردست تحریک چلائی لیکن بعد میں ایسٹ پاکستان (مشرقی پاکستان) کو 1971 میں علیحدہ ہونا پڑا جو اب بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔
مسلمانوں نے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔
قائد اعظم نے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کا حق منوایا۔